زبُور 39 : 1 (URV)
کیا تو جانتا ہے پہاڑ کی جنگلی بکریاں کب بچے دیتی ہیں ؟یا جب ہرنیاں بیاتی ہیں تو کیا تو دیکھ سکتا ہے ؟
زبُور 39 : 2 (URV)
کیا تو اُن مہینوں کو جنہیں وہ پُورا کرتی ہیں گن سکتا ہے؟یا تجھے وہ وقت معلوم ہے جب وہ بچے دیتی ہیں ؟
زبُور 39 : 3 (URV)
وہ جھک جاتی ہیں ۔وہ اپنے بچے دیتی ہیں اور اپنے درد سے رہائی پاتی ہیں ۔
زبُور 39 : 4 (URV)
اُنکے بچے موٹے تازہ ہوتے ہیں ۔وہ کھلے میدان میں بڑھتے ہیں ۔وہ نکل جاتے ہیں اور پھر نہیں لوٹتے ۔
زبُور 39 : 5 (URV)
گورخر کو کس نے آزاد کیا؟ جنگلی گدھے کے بند کس نے کھولے ؟
زبُور 39 : 6 (URV)
بیابان کو میں نے اُسکا مکان بنایا اور زمین شور کو اُسکا مسکن ۔
زبُور 39 : 7 (URV)
وہ شہر کے شور وغل کو ہیچ سمجھتا ہے اور ہانکنے والے کی ڈانٹ کو نہیں سُنتا ۔
زبُور 39 : 8 (URV)
پہاڑوں کا سلسلہ اُسکی چراگاہ ہے اور وہ ہریالی کی تلاش میں رہتا ہے۔
زبُور 39 : 9 (URV)
کیا جنگلی سانڈ تیری خدمت پر راضی ہوگا؟کیا وہ تیری چرنی کے پاس رہیگا ؟
زبُور 39 : 10 (URV)
کیا تو جنگلی سانڈ کو رسیّ سے باندھکر ریگھاری میں چلاسکتا ہے؟یا وہ تیرے پیچھے پیچھے وادیوں میں ہینگا پھیریگا؟
زبُور 39 : 11 (URV)
کیا تو اُسکی بڑی طاقت کے سبب سے اُس پر بھروسا کریگا؟یا کیا تو اپنا کام اُس پر چھوڑ دیگا؟
زبُور 39 : 12 (URV)
کیا تو اُس پر اعتماد کریگا کہ وہ تیرا غلّہ گھر لے آئے اور تیرے کھلیہان کا اناج اِکٹھا کرے ؟
زبُور 39 : 13 (URV)
شُتر مُرغ کے بازُو آسودہ ہیں لیکن کیا اُسکے پر وبال سے شفقت ظاہر ہوتی ہے؟
زبُور 39 : 14 (URV)
کیونکہ وہ تو اپنے انڈے زمین پر چھوڑ دیتی ہے اور ریت سے اُنکو گرمی پہنچاتی ہے
زبُور 39 : 15 (URV)
اور بھول جاتی ہے کہ وہ پاؤں سے کچلے جائینگے یا کوئی جنگلی جانور اُنکو رَوند ڈالیگا ۔
زبُور 39 : 16 (URV)
وہ اپنے بچوں سے اَیسی سخت دِلی کرتی ہے گویا وہ اُسکے نہیں ۔خواہ اُسکی محنت رایگاں جائے اُسے کچھ خوف نہیں ۔
زبُور 39 : 17 (URV)
کیونکہ خدا نے اُسے عقل سے محروم رکھا اور اُسے سمجھ نہیں دی ۔
زبُور 39 : 18 (URV)
جب وہ تنکر سیدھی کھڑی ہوجاتی ہے تو گھوڑے اور اُسکے سوار دونوں کو ناچیز سمجھتی ہے۔
زبُور 39 : 19 (URV)
کیا گھوڑے کو اُسکا زور تو نے دیا ہے ؟ کیا اُسکی گردن کو لہراتی ایال سے تو نے مُلبسّ کیا ؟
زبُور 39 : 20 (URV)
کیا اُسے ٹِڈّی کی طرح تونے کدایا ہے ۔اُسکے فرّانے کی شان مُہیب ہے ۔
زبُور 39 : 21 (URV)
وہ وادی میں ٹاپ مارتا ہے اور اپنے زور میں خوش ہے۔ وہ مُسلّح آدمیوں کا سامنا کرنے کو نکلتا ہے۔
زبُور 39 : 22 (URV)
وہ خوف کو ناچیز جانتا ہے اور گھبراتا نہیں اور وہ تلوار سے منہ نہیں مورتا ۔
زبُور 39 : 23 (URV)
ترکش اُس پر کھڑکھڑاتا ہے ۔چمکتا ہُوا بھالا اور سانگ بھی۔
زبُور 39 : 24 (URV)
وہ تُندی اور قہر مین زمین پیمائی کرتا ہے اور اُسے یقین نہیں ہوتا کہ یہ تُرہی کی آواز ہے۔
زبُور 39 : 25 (URV)
جب جب تُرہی بجتی ہے وہ ہِن ہِن کرتا ہے اور لڑائی کو دُور سے سُونگھ لیتا ہے۔سرداروں کی گرج اور للکار کو بھی ۔
زبُور 39 : 26 (URV)
کیا باز تیری حکمت سے اُڑتا ہے اور جنوب کی طرف اپنے بازُو پھیلاتا ہے؟
زبُور 39 : 27 (URV)
کیا عقاب تیرے حکم سے اُوپر چڑھتا ہے اور بلند ی پر اپنا گھونسلا بناتا ہے؟
زبُور 39 : 28 (URV)
وہ چٹان پر رہتا اور وہیں بسیرا کرتا ہے ۔یعنی چٹان کی چوٹی پر اور پناہ کی جگہ میں ۔
زبُور 39 : 29 (URV)
وہیں سے وہ شکار تاڑ لیتا ہے اُسکی آنکھیں اُسے دُور سے دیکھ لیتی ہیں ۔
زبُور 39 : 30 (URV)
اُسکے بچے بھی خون چوُستے ہیں اور جہاں مقتول ہیں وہاں وہ بھی ہے۔

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30