زبُور 35 : 1 (URV)
اِسکے علاوہ اِلہیوؔ نے یہ بھی کہا:۔
زبُور 35 : 2 (URV)
کیا تو اِسے حق سمجھتا ہے یا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تیری صداقت خدا کی صداقت سے زیادہ ہے۔
زبُور 35 : 3 (URV)
جو تو کہتا ہے کہ مجھے اِس گنہگار ہونے کی نسبت کونسا زیادہ فائدہ ہوگا ؟
زبُور 35 : 4 (URV)
میں تجھے اور تیرے ساتھ تیرے رفیقوں کو جواب دُونگا ۔
زبُور 35 : 5 (URV)
آسمان کی طرف نظر کر اور دیکھ اور افلاک پر جو تجھ سے بلند ہیں نگاہ کر ۔
زبُور 35 : 6 (URV)
اگر تو گناہ کرتا ہے تو اُسکا کیا بگاڑتا ہے؟ اور اگر تیری تقصیر یں بڑھ جائیں تو تُو اُسکا کیا کرتا ہے؟
زبُور 35 : 7 (URV)
اگر تو صادق ہے تو اُسکو کیا دے دیتا ہے؟ یا اُسے تیرے ہاتھ سے کیا مل جاتا ہے؟
زبُور 35 : 8 (URV)
تیری شرارت تجھ جیسے آدمی کے لئے ہے اور تیری صداقت آدم زاد کے لئے ۔
زبُور 35 : 9 (URV)
ظلم کی کثرت کی وجہ سے وہ چلاتے ہیں ۔زبردست کے بازُو کے سبب سے مدد کے لئے دُہائی دیتے ہیں ۔
زبُور 35 : 10 (URV)
پرکوئی نہیں کہتا کہ خدا میرا خالق کہاں ہے جو رات کے وقت نغمے عنایت کرتا ہے۔
زبُور 35 : 11 (URV)
جو ہم کو زمین کے جانوروں سے زیادہ تعلیم دیتا ہے اور ہمیں ہوا کے پرندوں سے زیادہ عقلمند بناتا ہے ؟
زبُور 35 : 12 (URV)
وہ دُہائی دیتے ہیں پر کوئی جواب نہیں دیتا ۔ یہ بُرے آدمیوں کے عزور کے سبب سے ہے ۔
زبُور 35 : 13 (URV)
یقیناًخدا بطالت کو نہیں سُنیگا اور قادِ ر مطلق اُسکالحا ظ نہ کر یگا ۔
زبُور 35 : 14 (URV)
خا صکر جب تو کہتا ہے کہ تو اُسے دیکھتا نہیں ۔ مقد مہ اُ سکے سامنے ہے اور تو اُ سکے لئے ٹھہرا ہُوا ہے۔
زبُور 35 : 15 (URV)
پر اب چونکہ اُ س نے اپنے غضب میں سزا نہ دی اور وہ عزور کا زیادہ خیال نہیں کرتا
زبُور 35 : 16 (URV)
اِ سلئے ایوب ؔ خودبینی کے سبب سے اپنا منہ کھولتا ہے اور نادانی سے باتیں بناتا ہے۔

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16